پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد کھٹائی میں پڑ گئی
یورپی یونین ساختہ الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کمرشل بینکوں کے ذریعہ اس سلسلےمیں لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے سے مسلسل انکاری ہے۔ یہ بات جرمن سفیر الفریڈ گرنناس نے وفاقی وزیر اقتصادی امور کے نام تحریر ایک خط میں بتائی۔
گزشتہ 27؍ فروری کو تحریر خط میں مذکورہ وزیر کی توجہ مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور آڈی گاڑیوں کے باقاعدہ درآمد کنندگان کو درپیش مشکل صورتحال کی جانب بھی مبذول کرائی۔ الیکٹرک گاڑیاں نہایت ماحول دوست ہوتی ہیں۔ جرمن سفیر کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کے لیے مثبت ریگولیٹری فریم ورک فیصلہ کن قدم ہے۔
No comments