ہمیں فوری ہوم ایگری کلچر کی طرف آنا ہو گا

نوراللہ صدیقی

پاکستان مہنگائی اور اشیائے خورونوش کی عدم دستیابی کے سنگین ترین بحران کا شکار ہے پیاز ٹماٹر، ادرک لہسن سبزیاں اور چکن مہنگے اور نایاب ہو گئے ہیں، یہ مسئلہ مہنگائی اور کم آمدنی کا رونا رونے یا گالیاں دینے سے حل نہیں ہوگا، چھوٹا کاشتکار لکیر کا فقیر بننے کی بجائے زیادہ سے زیادہ سبزیاں کاشت کرے، بلکہ شہری اپنے گھروں میں خالی جگہ پر سبزیاں اگائیں خالی جگہ نہیں ہے تو چھتوں پر گملے رکھ کر  سبزیاں اگائیں شہر محلہ اور گلی کی سطح پر کاشت کاری کا کلچر اختیار کیا جائے، اگر کوئی کاشتکار پیاز، ٹماٹر، سبزیاں چکن لینے مقامی بازار میں جاتا ہے تو یہ اس کے لیے  ڈوب مرنے کا مقام ہے، کاشت کار عہد کریں کہ وہ کم از کم پیاز، ٹماٹر سبزیاں خریدنے بازار نہیں جائیں گے خود کاشت کریں گے، ایک وقت تھا زراعت کا مضمون میٹرک کے نصاب میں شامل تھا جسے نصاب سے نکال دیا گیا پاکستان زرعی ملک ہے مگر ہم نئی نسل کو اس سے لاتعلق رکھے ہوئے ہیں، اور کاشتکاروں اور زمینداروں کو زیادہ پیسوں کی آفر کر کے ان کی زمینیں رئیل اسٹیٹ میں لگائی جا رہی ہیں زمین سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے اسے ذبح نہ کریں، زمین قدرت کی کی ایسی عطا ہے جس نے بڑھنا نہیں ہے لہذا اس کا مفید استعمال سوچ سمجھ کر کیا جائے زمین سے انسانی حیات اور بقا وابستہ ہے، اس وقت پاکستان کو کوالیفائیڈ کاشتکار، کوالیفائیڈ ٹیکنیشز، الیکٹریشنز کی ضرورت ہے مگر اس طرف توجہ دینے کے لیے کسی حکومت اور ادارے کے پاس وقت نہیں ہے اور ہمارے تعلیمی ادارے  ہر سال لاکھوں کی تعداد میں غیر ہنر مند بے روزگار نوجوانوں کی کھیپ تیار کر کے مارکیٹ میں بھیج رہے ہیں، مہنگائی کا رونا رونے کے پیچھے محنت نہ کرنے  اور ہڈ حرامی کی زندگی گزارنے کی روش بھی شامل ہے، چین، بھارت، بنگلہ دیش نے زرعی و ہوم انڈسٹری کو فروغ دے کر معاشی استحکام حاصل کیا اور ہم 22 کروڑ عوام کا ملک دنیا کی محض کنزیومر مارکیٹ بن کر رہ گئے ہیں، ملک مسائل کا شکار ہے تو اس کے تدارک کے لئے عوامی سطح پر کیا اقدامات کیے گئے؟ قوم ذہن نشین کر لے اس نظام کے تحت جو حکومت بھی آئے گی وہ چور اور نااہل ہوگی اس کا کام قرضے لینا، ہڑپ کرنا اور سود ادا کرنے کے لیے قوم کی کھال اتارنا ہوگا لہذا ہر فرد کو ازخود محنت کرنا ہوگی اپنی زندگی کا سامان کرنا ہوگا۔کاشتکار اپنی سوچ کو بدلیں 6 ماہ میں ایک بار فصل لینے کی بجائے سہ ماہی اور دوماہی سبزیوں پھلوں کی کاشت کی طرف آئیں اور پوری قوم کے لئے پھل سبزیاں اگانے کی بجائے اپنے گاؤں، اپنے شہر  اپنے محلے اور اپنے گھر اور خاندان کو فیڈ کرنے کی سوچ اپنائیں ، انھوں نے مزید کہا کہ چھوٹا کاشتکار لائیو سٹاک کو ترجیح دے ، پولٹری کے بزنس کی طرف آئے ورنہ یہ حکمران اور ان کی سرپرستی میں کام کرنے والا مافیا اس قوم کو بھوکا مار دے گا ۔پاکستان کا مستقبل زراعت کی ترقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور زراعت ہی وہ واحد شعبہ ہے جو فاقوں اور بے روزگاری کے سامنے بند باندھ سکتا ہے۔اپنے گاؤں اور شہر کے اطراف میں موجود خالی جگہوں پر پھل دار درخت لگائیں اور خوراک کے بحران پر قابو پائیں ۔محکمہ زراعت کے ہزاروں ملازمین اور افسران بھی ہڈ حرامی چھوڑیں اور شہریوں کو ہوم ایگری کلچر اپنانے کی ترغیب دیں


No comments

Powered by Blogger.