اسلام ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کر لی۔عمران خان کی ضمانت 9 مارچ تک منظور کی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ عمران خان بائیو میڑک کروانے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تو عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے مرکزی دروازے پر روک لیا گیا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی گئی، قبل ازیں توشہ خانہ کیس میں سیشن عدالت نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اس حوالے سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس میں ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کہا سات مارچ کو کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی، پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں ان کے وکیل نے سماعت 5 دن کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی جس پر جج نے برہمی کا اظہار کیا۔

جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون ساطریقہ ہے، عمران خان جی الیون کورٹس میں پیش ہوسکتے ہیں، کچہری میں نہیں، عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے اِدھر کے لیے ٹائم نہیں بچے گا، یہ کون ساطریقہ ہے، ادھر فرد جرم عائد ہونا ہے ادھر آجائیں، فرد جرم عائد ہوجائے پھر چلے جائیں۔

جج کے ریمارکس پر علی بخاری نے کہا کہ خواجہ حارث اس کیس میں عمران خان کے وکیل ہیں، منگل کو یہاں اس عدالت میں پیش ہونے کے لیے وہ دستیاب نہیں ہیں، بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں پھر طلب کیا تھا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق فوجداری کیس کی سماعت ہوئی جس میں ان کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے جب کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے سعد حسن بطور وکیل پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت الیکشن کمیشن اور عمران خان کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس میں عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں۔

No comments

Powered by Blogger.