فرح گوگی کے خلاف اربوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز
ایف آئی اے نے فرح گوگی کے خلاف اربو ں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف آئی اے لاہور نے پنجاب اینٹی کرپشن کی طرف سے فرح گوگی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف بھیجی گئی درخواست پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ فرح گوگی گذشتہ دور ِ حکومت میں آر پی اوز، کمشنرز ، ڈی پی اوز اور ڈی سی وغیرہ کے تبادلوں کے عوض اربو ں روپے بطور رشوت لیتی رہیں ۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق فرح گوگی نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں سال 2021 میں 60 کروڑ روپے مالیت کی 10 ایکڑ اراضی اپنی کمپنی المعیز ڈیریز اینڈ فوڈ ز پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام پر غیر قانونی طور پر صرف 8 کروڑ میں الاٹ کروائی۔
اس کے علاوہ فرح گوگی نے سرکاری افسران پر دباؤ کے ذریعے ٹھیکہ جات کے ٹینڈرز د غیر قانونی طور پر ایوارڈ کروانے کی مد میں بھی کروڑوں روپے بطور رشوت لیے ۔ تحقیقات کے دوران فرح گوگی کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں گذشتہ دور حکومت کے پچھلے تین سالوں میں تقریبا 84 کروڑ روپے جمع کروائے گئے جو اس کے ذریعہ آمدن سے مماثلت نہیںرکھتے ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فرح گوگی کے تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر گذشتہ دور حکومت میں تقریبا 1 ارب سے زائد روپے بذریعہ کیش جمع کروائے گئے۔ صرف سال 2019 اور 2020 میں فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں تقریبا َ41 کروڑ روپیہ بذریعہ کیش جمع کروایا گیا۔
فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں کیش تقریباً 50 سے زائد کیش رائیڈرز نے جمع کروایا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران فرح گوگی کے اربوں روپے کے مزید بے نامی بینک اکاؤنٹس ملنے کا امکان ہے ۔ گذشتہ دور حکومت میں فرح گوگی کے نام پر بننے والے تقریبا 52 کروڑروپے مالیت کے اثاثہ جات بشمول کمرشل و رہائشی پلاٹ ، پلازے اور گھر بحریہ ٹاؤن لاہور ، ڈی ایچ اے لاہور اور اسلام آباد میں واقع بھی سامنے آئے ہیں ۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ فرح گوگی نے کرپشن ، رشوت ستانی اور غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ و دباؤ کے ذریعے اربوں روپے کمائے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثہ جات بنائے۔ ایف آئی اے لاہورنے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔ آئندہ فرح گوگی کے کمائے گئے کالے دھن سے جڑے اور بڑے بڑے سیاسی و سرکاری نام بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

No comments