آرٹیکل 224 کہتا ہے90 دنوں میں انتخابات ہوں گے:چیف جسٹس
انتخابات میں تاخیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہوں گے۔
عدالت کے پاس وقت کم ہے۔ہم آئین پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے صدرمملکت ، وفاق ، پنجاب ، خیبر پختونخوا حکومت، گورنرز اور الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کردئیے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر ریمارکس دیئے کہ آج ہم اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر تھا۔ہمارے سامنے بہت سے فیکٹرز تھے۔عدالت نے 3 معاملات کو سننا ہے۔
دیکھنا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن تاریخ دینے کا اختیار کس کو ہے؟ ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر سامنے تھا ۔صدر پاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔چاہتے ہیں انتخابات آئین کے مطابق ہوں۔انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا وقت مزید بڑھ سکتا ہے۔

No comments