گونگے بہرے بچوں والے خاندان فرسٹ کزن میرج نہ کریں:ڈاکٹر نصراللہ
ڈاکٹر نصراللہ رانانے کہا گونگے بہرے بچوں والے خاندان فرسٹ کزن میرج نہ کریں،ہینڈ فری کا بے جا استعمال قوت سماعت متاثر کر سکتا ہے،پروفیسر ڈاکٹر تابندہ رانا سابق ہیڈ آف گائنی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی و لیڈی ولنگٹن اور بیرسٹر مبین رانا (ڈائریکٹر سنائی فائونڈیشن )نے بھی خطاب کیا،میزبانی کے فرائض چیئرمین میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی واصف ناگی نے سر انجام دیئے۔ڈاکٹر نصراللہ رانا نے مزید کہا کہ کانوں کی قوت سماعت کی حفاظت کیلئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے، میں اس سلسلے میں عوام کو مشورہ دونگا کہ وہ کاٹن بڈ کا استعمال ہرگز نہ کریں ،اس سے کان کا پردہ پھٹ جاتا ہے،قوت سماعت متاثر ہوتی ہے ،اسکے علاوہ کان پر تھپڑ نہ ماریں اس سے بھی سماعت متاثر ہوتی ہے
،HEARING FOR ALL کے سلوگن پر کام کر رہا ہوں اس سلسلے میں عالمی سماعت کے دن کے حوالے سے میں لوگوں کو سیکڑوں لیکچر دیئے تاکہ لوگوں میں سماعت کے متعلق آگاہی پیداہو اور خاص طور پر جن خاندانوں میں پہلے سے گونگے بہرے بچے موجود ہوں وہ فرسٹ کزن میرج سے اجتناب کریں،اسکے لئے میرج کونسلنگ کی ضرورت ہے۔حمل کے پہلے 3مہینے میں ادویات کا بے جا استعمال ماں کے پیٹ میں بچے کی سماعت کومتاثر کرسکتا ہے ،کانوں میں کسی بھی قسم کا تیل یا چابی کا استعمال نہ کریں ،موبائل اور ہینڈ فری کا بے جا استعمال کان کی قوت سماعت کو متاثر کر سکتا ہےاور بعض اوقات مریض کے کانوں میں شائیں شائیں اور بے ہنگم آوازآتی ہے جسے TINITUSکہتے ہیں ،عوام سے التماس ہے کہ فٹ پاتھوں پر بیٹھے اناڑی لوگوں سے کان کی صفائی نہ کروائیں اس سے کان کا پردہ متاثر ہوتا ہے اور بعدمیں بہرہ پن کا سبب بن سکتا ہے۔ڈاکٹر رانا نے مزید بتایا کہ ہوائی سفر آج کل عام ہے اگر کسی شخص کا نزلہ زکام کی وجہ سے ناک بند ہے تو جب جہاز لینڈ کرتا ہے تو باہر کا پریشر کان کے پردے کو متاثر کر سکتا ہےاس سے بچنے کے لئے منہ میں چیونگم ڈال کر زور سے چباتے رہیں ۔ہیرنگ ایڈ (HEARING AID)آج کے دور میں جدید پیش رفت ہے اور سستا اور آسان علاج بھی ہے،شوگر کا مرض عام ہے ،اس سے بھی سماعت متاثر ہوتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر تابندہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمل کے دوران ادویات کا زیادہ استعمال کرنے سے بچے کے کان متاثر ہو سکتے ہیں ۔بیرسٹر مبین رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 مارچ کان کی حفاظت کا عالمی دن ہے ،ہم سب کو چاہئے کہ اس کی حفاظت کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں ۔
No comments