اسلام نے عورت کے استحصال کا خاتمہ کیا
نوراللہ صدیقی
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آئین پاکستان میں خواتین کو عام شہری سے زیادہ حقوق اور تحفظ دینے کی بات کی ہے مگر جس طرح انسانی حقوق کے باب میں تحفظ کی گارنٹیاں دی گئی ہیں اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر آئین فوری انصاف کی فراہمی کی بات کرتا ہے مگر فوری انصاف دستیاب نہیں ہے۔ آئین آزادی اظہار کا تحفظ کرتا ہے مگر زمین پر آئین کی روح کے مطابق یہ تحفظ نظر نہیں آتا۔ آئین 6 سے 16سال کی عمر کے ہر بچے کو لازمی فراہم کرنے کی بات کرتا ہے مگر زمین پر ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ آج بھی اڑھائی سے 3کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور جبری یا رضاکارانہ مشقت کا شکار ہیں۔ اسی طرح آئین بلدیاتی انتخابات کی بات کرتا ہے مگر پچھلے 40سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے راہ فرار کے راستے تلاش کرتی ہیں۔ آئین کاآرٹیکل 38ہر قسم کے استحصال کے خاتمے کی بات کرتا ہے مگر عام آدمی کو خالص دودھ، خالص ادویات یہاں تک کہ خالص پانی کے نام پر لوٹا جاتا ہے اور ببانگ دہل عام آدمی کا مالی استحصال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آئین فرد کی سلامتی، فیئر ٹرائل، جبری مشقت کے خاتمے کی بات کرتا ہے مگر یہ آلائشیں پوری طاقت اور حقیقت کے ساتھ ہمارے دائیں بائیں موجود ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 63 قومی زندگی میں عورتوں کی مکمل شمولیت کی بات کرتا ہے مگر ہمیں اس پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ صرف عورتوں تک محدود نہیں ہے مرد، بچے، بوڑھے بھی اس کی زد میں آتے ہیں تو اس لئے صرف خواتین کے بارے میں مہم چلانا کہ اس کا بطور خاص استحصال کیا جاتا ہے حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ صنف نازک ہونے کی حیثیت سے اور مالی خودمختاری کے معاملے میں مردوں سے کم درجہ پر ہونے کی وجہ سے عورت کو امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ آئین، قانون کی نظر میں خواتین کم ترہیں۔ ہم ہر سال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ رویے تعلیم اور تربیت کو فروغ دینیسے تبدیل ہوں گے، عوامی سطح پر تعزیری لب و لہجہ اختیار کرنے سے کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔ اس سے انتشار اور خلفشار بڑھے گی۔ عورت کے نام پر اپنے احتجاج اور ریلیوں کو سجانا بھی ایک طرح کا عورت کا جذباتی استحصال ہے کیونکہ ایسی ریلیوں سے خواتین کی حالت زار تبدیل ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی۔ زیر نظر تحریر کے ذریعے ہم عوامی سطح پر خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی خواتین اور تحریکوں سے کہتے ہیں کہ وہ آئین اور قانون میں عورت کو دئیے گئے حقوق پر عملدرآمد کے حوالے سے شعور کو اجاگر کریں اور اسلام نے خواتین کو جو عزت و تکریم اور حقوق دئیے ہیں اس کو دنیا کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسلام وہ واحد الہامی ضابطہ حیات ہے جس نے ویمن امپاورمنٹ کے لئے خواتین کو وراثت میں حصہ دار بنایا۔ دنیا کا کوئی آئین، کوئی ضابطہ حیات کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے ویمن امپاورمنٹ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے ہوں۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کو کسی چیز کی مالک بننے کا حق حاصل نہیں تھا، عورتوں کے لئے کوئی وراثت نہیں تھی، عورت کو خرید و فروخت کی چیز سمجھا جاتا تھا، اسلام نے ان جاہلانہ رسومات اور عورت کے استحصال کا خاتمہ کیا۔ سورہ النسا میں عورت کے معاشی حقوق کو تحفظ دیتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا ”اے ایمان والو!تم کو یہ بات حلال نہیں کہ عورتوں کے (مال یا جان کے)جبراً مالک ہو جاؤ“ویمن امپاورمنٹ اور عزت و تکریم کا یہ اعلان کسی انسان کی طرف سے نہیں مالک کائنات کی طرف سے ہے۔
ویمن امپاورمنٹ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر نگاہ دوڑائیں تو چشم کشا اقوال، احکامات اور اقدامات ملتے ہیں۔ اسلام نے جہاں عورت کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا وہاں جہلائے عرب کی طرف سے بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی سفاکانہ رسم کا بھی خاتمہ کیا اور اللہ رب العزت نے سورۃ النحل میں حکم دیا کہ بچی کی ولادت کو بری خبر نہ سمجھو اور بچی کی ولادت کی خبر پا کر اپنے چہرے سیاہ مت کرو، اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے یا ان کی تعلیم و تربیت کو بار سمجھنے والے مصطفوی تعلیمات پر نہیں بلکہ دشمنان اسلام کے راستے ہیں۔ اللہ رب العزت نے بیٹیوں کی تکریم میں کرہ ارض کے ہر انسان سے یہ وعدہ کیا کہ غربت کے ڈر سے بیٹیوں کو قتل نہ کیا کرو، ان کا رزق ہم تمہیں دیں گے۔ اسلام نے بدلے کی شادی، دوستی کی شادی، وٹے سٹے کی شادی، کسی فائدے کے عوض عورت کسی اور کے تعلق میں دینا اور بدکاری کی سخت ممانعت کی۔ یہ سارے احکامات خاتون کی عزت و عصمت کے تحفظ کے باب میں آئے کہ کوئی عورت کو خرید و فروخت کی چیز نہ سمجھے، اس کے ساتھ جو نسبت بھی قائم کی جائے وہ باوقار اور قانون و ضوابط کے پیرائے میں ہو۔ آج اسلام پر انتہا پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ تنگ نظری کا پروموٹر ہے۔ یہ سوچ بذات خود تنگ نظری پر مبنی ہے۔ اگر اسلام مرد و زن کے غیر اخلاقی یا غیر قانونی اختلاط پر قدغن لگاتا ہے تو اس کا بنیادی مقاصد عورت کے عائلی حقوق کا تحفظ ہے۔ آج اپنی تمام تر آسائشوں کے باوجود مغربی معاشرے میں عورت کا وجود مشینی پرزے سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس اسلامی معاشرے میں مرد کو عورت کا کفیل بنایا گیا ہے اور اس کے بدلے میں عورت کو عصمت و حیا کے تحفظ کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
حضور نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ کسی شخص کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تین مرتبہ اجازت طلب کریں۔ اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ اس حکم کے پس پردہ بھی عورت کی عزت و عصمت کا تحفظ مقصود ہے۔ قرآن و سنت میں ہزار ہا احکامات ایسے ہیں جو صرف عورت کی تقدیس و تحفظ کے باب میں وارد ہوئے۔ علمائے کرام، مسلم میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو اسلام کی مارڈرن تعلیمات کو نمایاں کرنا چاہیے اور اسلام کے قنوطیت پسند ہونے کے الزام تراشی پر مبنی الزامات کا توڑ کرنا چاہیے۔

No comments