نواز شریف نے عمران خان کی جیل بھرو تحریک کو غیر اہم قرار دے دیا

 

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی جیل بھرو تحریک کو غیر اہم قرار دے دیا۔لندن میں نواز شریف سے آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے ملاقات کی۔اس موقع پر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ میاں نواز شریف نے موجودہ آزاد کشمیر کی حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر سوچیں گے کہ اگر عدم اعتماد لاتے ہیں تو عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔

اس موقع پر نواز شریف نے پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جیل بھرو تحریک میں کوئی بات ہو تو کریں۔جبکہ وزیراعظم کے مشیرانجینئرامیرمقام نے کہا ہے کہ عمران نیازی صرف جیب بھر سکتا ہے، جیل نہیں، جیل بھرو تحریک، جیل سے بھاگو تحریک بن گئی ، جیل بھرو تحریک ختم اور ضمانت کراؤ تحریک شروع ہوچکی ہے۔

جیل بھرو تحریک پر اپنے رد عمل میں امیر مقام کا کہنا تھا کہ عمران نیازی صرف جیب بھر سکتا ہے، جیل نہیں، جیل بھرنے کی بڑھکیں رونے، "رہا کرو" اور "بیمار ہوں" کی منتوں میں بدل گئی ہیں، پولیس ہر روز زمان پارک کے باہر جیل بھرو تحریک کا اعلان کرے۔

امیر مقام نے کہا کہ سوات میں محمود خان کے گھر کے باہر جیل بھرو کی دعوت دی جاتی رہی لیکن وہ گھر سے باہر نہ نکلے ، عمران کے لئے جان حاضر ہونے کے دعویدارجیل جانے کے خوف سے بھاگ چکے، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما "پلستر نیازی" کی طرح بیماریوں کے پیچھے چھپ گئے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے 200 سے زیادہ سیاسی کارکن مختلف جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

ان رہنماؤں میں شاہ محمود قریشی،اسد عمر اور صف اوّل کی دیگر قیادت شامل ہے۔ فواد چوہدری نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ زلفی بخاری،صداقت عباسی اور فیاض الحسن چوہان سمیت دیگر رہنماؤں کو رات گئے شاہ پور جیل منتقل کیا گیا۔ ’’جیل بھرو زندان بھرو تحریک ‘‘ کا مقصد عوام کے سیاسی اور معاشی حقوق کیلئے جدوجہد کا شعور ہے،فسطائی حکمرانوں سے آزادی ہماری منزل ہے۔

No comments

Powered by Blogger.