غلام محمود ڈوگر نے سی سی پی او لاہور کا چارج نہ ملنے پر عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا
سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکم نامہ جاری ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے کیپٹل سٹی پولیس چیف لاہور غلام محمود ڈوگر کی معطلی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔معطلی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے بعد وفاق کی جانب سے غلام محمود ڈوگر کی خدمات پنجاب حکومت کے سپرد واپس کر دی گئیں، غلام محمود ڈوگر کو ابھی تک عہدے کا چارج نہیں ملا جس کے بعد انہوں نے سی سی پی او لاہور کا چارج نہ ملنے پر عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
غلام محمود ڈوگر کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم اور نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے باوجود چارج نہیں دیا گیا۔چیف سیکرٹری اور آئی جی سٹاف نے دستاویز لینے سے معذرت کی۔غلام محمود ڈوگر نے چیف سیکرٹری ،آئی جی کو آرڈرز کی نقول واٹس ایپ پر بھیج دیں۔
غلام محمود ڈوگر نے اب فیصلہ کیا ہے کہ جواب نہیں ملا، اب عدالت میں ہی دوبارہ جانا پڑے گا۔سپریم کورٹ نے 17 فروری کو غلام محمود ڈوگر کی بحالی حکم سنایا تھا۔
سپریم کورٹ نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی بحالی کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غلام محمود ڈوگر ٹرانسفر کی منظوری زبانی طور پر حاصل کی گئی، زبانی منظوری کے بعد تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے اجازت حاصل کی گئی ، بعدی النظرمیں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر سپریم کورٹ کے 2 دسمبر کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غلام محمود ڈوگر کا معاملہ پہلے سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا۔غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا 23 جنوری کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا ،غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا 23 جنوری کا حکم معطل کیا جاتا ہے۔عدالت نے کہاکہ غلام محمود ڈوگر کیس کی آئندہ سماعت پولیس ٹرانسفر پوسٹنگ کیس کے ساتھ کی جائے۔علاوہ ازیں اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے غلام محمود ڈوگر کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ نے غلام محمود ڈوگر کو معطل کرنے کے احکامات منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

No comments