امریکا میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک
امریکا کی جنوبی ریاست مسی سیپی میں ایک مسلح شخص نے گولی مار کر 6 افراد کو ہلاک کر دیا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’مسیسیپی پولیس نے کہا کہ ایک شخص نے ارکابوٹلا نامی قصبے کے اسٹور پر ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر قریبی گھر میں جا کر ایک خاتون کو قتل کر دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بعد میں کاؤنٹی شیرف کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ خاتون ملزم کی سابقہ بیوی تھی۔
شیرف بریڈ لانس نے سی این این کو بتایا کہ پولیس نے ملزم کی گاڑی کا اس کے گھر تک پیچھا کیا اور دیکھا کہ وہاں بھی دو افراد کو قتل کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پانچواں اور چھٹا قتل ایک مرد اور ایک عورت کا اس کے پڑوس والے گھر میں ہوا جنہیں گولی ماری گئی تھی اور ممکنہ طور پر یہ بھی مشتبہ شخص کا کام تھا جسے فرار ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
ٹیٹ کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے فیس بک پوسٹ میں مبینہ قاتل کی شناخت 52 سالہ رچرڈ ڈیل کرم کے طور پر کی اور کہا کہ ملزم حراست میں ہے اور اس پر فرسٹ ڈگری قتل کا الزام ہے۔
ایک ٹوئٹ میں مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے، اس وقت ہمارا ماننا ہے کہ اس نے یہ وارداتیں اکیلے کی ہیں لیکن اس کا مقصد معلوم نہیں۔
جمعہ کو ہونے والا فائرنگ کا یہ ہلاکت خیز واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شخص نے شمالی ریاست مشی گن میں ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’بس بہت ہوگیا، ابھی نئے سال کو شروع ہوئے صرف 48 روز ہوئے ہیں اور ہمارے ملک میں فائرنگ کے 73 بڑے واقعات ہوچکے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ تعزیت اور دعائیں کافی نہیں، گن وائلنس (بندوق سے کیا گیا تشدد) ایک وبا بن چکا ہے اور کانگریس کو اب لازمی کچھ کرنا چاہیے۔

No comments